پیٹرول کی قیمت نہیں لیکن شرح سود بڑھا سکتے ہیں: مفتاح اسماعیل

پیٹرول کی قیمت نہیں لیکن شرح سود بڑھا سکتے ہیں: مفتاح اسماعیل

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ انہوں نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے سے انکار کیا ہے تاہم انہوں نے آئی ایم ایف کی شرائط کے پیش نظر شرح سود بڑھانے کا عندیہ دیا ہے۔

پیر کو دوحہ روانگی سے قبل کراچی ایئرپورٹ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے آئی ایم ایف سے معاہدے کے بارے میں کہ وہ دو دن میں آئی ایم ایف سے معاہدہ طے کر کے آئیں گے اور وہاں سے اچھی اور مثبت خبر لائیں گے۔

وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف سے لکھواؤں گا کہ وہ کیا چاہتے ہیں اور وہ پھر وزیراعظم کو دکھاؤں گا۔

انہوں نے کہا کہ شوکت ترین جو باتیں مان کر گئے ہیں وہ نہیں مانوں گا۔

’انہوں نے جو چھ فیصد گروتھ دکھائی تھی اس کی وجہ سے آئی ایم ایف کہہ رہا ہے کہ آپ کی معیشت بہت تیز چل رہی ہے آپ کو اس لیے کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ ہو رہا ہے اس لیے معیشت کو سلو کرو اور معیشت سلو کرنے کا ان کا فارمولہ کیا ہوتا ہے کہ شرح سود بڑھاؤ تو اب شوکت بھائی کے شوق پورا کرنے میں شرح سود بھی شاید بڑھانی پڑے، سٹیٹ بینک بڑھانے پڑے گی۔‘

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل آئی ایم ایف سے مذاکرات کے آخری مرحلے کا دورہ کر رہے ہیں۔

معاشی امور کے ماہر خرم حسین کا کہنا ہے کہ اگر سٹیٹ بینک شرح سود بڑھاتا ہے تو اس کا ایک فائدہ یہ ہوگا کہ اس سے ایکسچینج ریٹ میں استحکام آئے گا۔

’شرح سود بڑھانے سے فائدہ یہ بھی ہوگا کہ مارکیٹ میں جو غیریقینی پھیلی ہے تو ان کو پتا چلے گا کہ مستقبل کا لائحہ عمل کیا ہے۔ نقصان یہ ہوگا یہ جس رفتارسے اقتصادی ترقی جاری ہے، اس کی رفتار کم ہو جائے گی۔‘

اقتصادی ترقی کی رفتار میں کمی کا مطلب کیا ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ کاروباری سرگرمیاں کم ہو جائیں گی اور کاروباری قرضے چڑھ جائیں گے اور سرمایہ کاروں کے پاس سرمایہ کاری کے لیے کم پیسے رہ جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ شرح سود بڑھنے سے پاکستان میں معیشت کی شرح نمو میں کمی ہوتی ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ نے میڈیا سے بات چیت میں یہ بھی کہا کہ سابق وفاقی وزیر خزانہ کہتے ہیں کہ وہ سبسڈی کے پیسے چھوڑ کر گئے ہیں۔ ’سابق وزیر خزانہ شوکت ترین بتائیں کہ سبسڈی کے پیسے کہاں چھوڑے ہیں۔‘

انہوں نے کہا شوکت ترین کو بتانا چاہیے کہ کیوں وہ 13 سو ارب کا خسارہ چھوڑ کر گئے ہیں۔

سابق حکومت نے دو کروڑ لوگوں کو غربت میں ڈالا ہے، اس کا جواب کون دے گا

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے پنجاب میں سیمنٹ فیکٹریوں کے 16 لائسنس فروخت کیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان کو بتانا ہوگا کہ عثمان بزدار کی قیادت میں پنجاب میں سیمنٹ فیکٹریوں کے لائسنس بیچے ہیں اور فرح گوگی کو افسروں کے تبادلوں کی اجازت دی تھی۔‘

ان کے مطابق ’سیمنٹ کے دو سے زیادہ لائسنس نہیں دیے جا سکتے کیونکہ ماحول کو نقصان ہوتا ہے۔ شہباز شریف نے 10 سال میں ایک بھی لائسنس نہیں دیا۔ انہوں نے تین سال میں 16 لائسنس دے دیے، بیچے ہیں۔‘

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ فرح گوگی اور شہزاد اکبر کیوں ملک سے باہر بیٹھے ہوئے ہیں۔

’عمران خان کی حکومت ہر طرف بارودی سرنگیں بچھا کر گئی ہے۔‘

Share this post