لانگ مارچ سے کیسے نمٹا جائے؟ ن لیگ کی نظر اتحادیوں پر

لانگ مارچ سے کیسے نمٹا جائے؟ ن لیگ کی نظر اتحادیوں پر

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 25 مارچ کو لانگ مارچ کے اعلان کے بعد اس وقت سے سب اہم سوال یہ پوچھا جا رہا ہے کہ کیا حکومت اپوزیشن جماعت کو لانگ مارچ اور اسلام آباد میں دھرنے کی اجازت دے گی یا نہیں؟ اور اس حوالے سے حکومت کی حکمت عملی کیا ہوگی؟

عمران خان کی جانب سے اتوار کو لانگ مارچ کے اعلان کے بعد حکومت اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات اور ردعمل میں اس معاملے پر کسی قسم کی حکمت عملی واضح نہیں ہے۔

تاہم وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے اعلانات سے ایک بات واضح ہو رہی ہے کہ ن لیگ ایک بار پھر اتحادیوں کی جانب دیکھ رہی ہے۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کے دوران جب وزیراعظم سے پوچھا گیا کہ حکومت لانگ مارچ کی اجازت دے گی یا نہیں تو انہوں نے کہا کہ ‘جب وقت آئے گا تب دیکھیں گے۔‘

خیال رہے کہ لانگ مارچ میں صرف دو دن باقی ہیں جبکہ توقع کی جا رہی ہے کہ کراچی اور بلوچستان سے کل ہی قافلے روانہ ہو جائیں گے۔

اسی طرح وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ ’اگر اتحادیوں نے لانگ مارچ روکنے کا فیصلہ کیا تو میں ان کو گھروں سے نہیں نکلنے دوں گا۔‘

وفاقی وزیر نے کہا کہ ’شیخ رشید کہتے تھے کہ آگ لگا دو، مار دو۔ اب کہتے ہیں کہ میں خونی لانگ مارچ کروں گا۔ انتشار پھیلانے کی کوشش کی تو قانون اپنا راستہ اپنائے گا۔‘

اسلام آباد نہ آنے دینےکا فیصلہ ہوا تو ان کو گھر سے نہیں نکلنے دوں گا۔ اِنہوں نے افراتفری پھیلانے کی کوشش کی تو گرفتار بھی کریں گے

وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے بھی سابق وزیراعظم کے لانگ مارچ کے اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے ‎کہا کہ ’کان کھول کے سُن لیں الیکشن کا اعلان ہم نے کرنا ہے۔ چیخیں، پیٹیں، روئیں یا دھمال ڈالیں، الیکشن کا فیصلہ حکومت اور اتحادیوں نے کرنا ہے۔‘

’الیکشن چاہیے تھا تو تب کرواتے جب اقتدار سے چمٹے ہوئے تھے اور اختیار رکھتے تھے۔ الیکشن سے متعلق آپ کے پاس اب کوئی اختیار نہیں ہے۔‘

‎انہوں نے کہا کہ 25 مئی کو آئی ایم کے ساتھ بات چیت کا آغاز ہے اور عمران کا اعلان اِس پر نیا حملہ ہے۔‘

Share this post