فیس بک اور انسٹاگرام سے جنسی مواد پر مبنی چار کروڑ 50 لاکھ پوسٹیں ہٹائی گئیں

فیس بک اور انسٹاگرام سے جنسی مواد پر مبنی چار کروڑ 50 لاکھ پوسٹیں ہٹائی گئیں

انسٹاگرام اور فیس بک کے مالک ادارے میٹا نے 2022 کی پہلی سہ ماہی سے متعلق رپورٹ میں ایک ارب 80 کروڑ سپیم اور دو کروڑ 17 لاکھ پرتشدد مواد کے خلاف کارروائی کرنے کی تصدیق کی ہے۔

منگل کی شام جاری کردہ ٹرانسپیرنسی رپورٹ میں میٹا کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس کی آخری سہ ماہی میں سپیم مواد کی مقدار ایک ارب 20 کروڑ جب کہ پرتشدد مواد کی مقدار ایک کروڑ 24 لاکھ رہی تھی جو موجودہ سے کم رہی تھی۔

میٹا کے مطابق انسٹاگرام سے رواں برس کی پہلی سہ ماہی کے دوران ڈرگ سے متعلق مواد کی 18 لاکھ پوسٹیں ریموو کی گئیں۔

اس عرصے میں ہراسیت اور دوسروں کی توہین کرنے کے مواد کی نشاندہی کا نظام بہتر ہوا جو گزشتہ سہ ماہی کے 58.8 فیصد کے مقابلے میں 67 فیصد رہا۔

میٹا کی جاری کردہ رپورٹ میں فیس بک کی 14 اور انسٹاگرام کی 12 پالیسیز پر عملدرآمد کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ ادارے کے مطابق فیس بک اور انسٹاگرام پر جنسی مواد دکھانے سے متعلق پالیسی پر عمل درآمد کو بھی بہتر کیا گیا ہے۔

انسٹاگرام اور فیس بک کی پالیسیوں پر عمل درآمد کے دوران ’احتجاج پر مبنی جنسی مواد دکھایا گیا یا پھر تعلیمی اور طبی مقاصد رکھنے والا مواد باقی رہنے دیا گیا ہے۔‘

فیس بک پر جنوری تا مارچ 2022 کے دوران جنسی مواد کی روک تھام کی وجہ سے اس کی مقدار 0.04 فیصد رہی۔ گویا ہر 10 ہزار ویوز میں سے چار ویوز ایسے مواد کو ملے جو برہنگی یا جنسیت پر مشتمل تھا۔ ماضی میں یہ تناسب 0.14 فیصد تک رہا ہے

میٹا نے فیس بک سے جنسی مواد پر مبنی تین کروڑ 10 لاکھ پوسٹیں ریموو کیں جب کہ انسٹاگرام پر یہ تعداد ایک کروڑ 40 لاکھ رہی۔

جنسیت مواد کے خلاف دو ہلاکھ 74 ہزار کارروائیاں صارفین کی شکایت پر ہوئیں جو کل مواد کا 3.30 فیصد ہے جب کہ 96.70 فیصد مواد کی نشاندہی کر کے صارفین کی شکایت سے قبل ہی اس کے خلاف خودکار طریقے سے کارروائی کی گئی ہے۔

جنسیت پر مبنی مواد شیئر کرنے والوں کی جانب سے اپیل کے بعد میٹا نے فیس بک پر دو لاکھ 87 ہزار جب کہ انسٹاگرام پر ایک لاکھ 84 ہزار پوسٹیں بحال کیں۔

میٹا نے فیس بک اور انسٹاگرام پالیسیوں پر عملدرآمد سے متعلق رپورٹ میں بچوں کو خطرے میں ڈالنے، جسمانی نقصان پہنچانے، جنسی ہراسیت، خطرناک اداروں، دہشت گردی، جعلی اکاؤنٹس، نفرت پھیلانے والے مواد، اسلحہ اور منشیات، سپیم، خودکشی اور خوداذیتی سے متعلق مواد کے خلاف کارروائیوں کو بھی شامل کیا ہے۔

طرناک اداروں اور افراد سے وابستہ 25 لاکھ جب کہ دہشت گردی سے متعلق افراد و اداروں سے وابستہ ایک کروڑ 61 لاکھ پوسٹوں کے خلاف کارروائی کی گئی۔

جعلی اکاؤنٹس کے سدباب لیے ایک ارب 60 کروڑ اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی کی گئی۔ یہ تعداد گزشتہ سہ ماہی میں ایک ارب 70 کروڑ تھی۔

میٹا کے مطابق رواں برس کی پہلی سہ ماہی کے دوران فیس بک پر فیک اکاؤنٹس کی سرگرمی کل ایکٹو اکاؤنٹس کا پانچ فیصد رہی۔

Share this post