الیکشن کے لیے ہر طرح کے مذاکرات کرنے کو تیار ہیں: عمران خان

الیکشن کے لیے ہر طرح کے مذاکرات کرنے کو تیار ہیں: عمران خان

سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ’امپورٹڈ حکومت کی جانب سے ہمارے  پرامن احتجاج پر شیلنگ کی گئی، ہم پرامن احتجاج کے خلاف طاقت کے استعمال کا معاملہ ہر فورم پر اٹھائیں گے۔

سنیچر کے روز پشاور میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ’26 سال میں ہم نے کبھی انتشار کی سیاست نہیں کی۔

انہوں نے بتایا کہ پیر کو سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کریں گے کہ کیا اس ملک میں پرامن احتجاج ایک جمہوری جماعت کا حق ہے یا نہیں؟

سپریم کورٹ سے پوچھیں گے کہ کیا آئندہ احتجاج پر بھی اسی طرح پکڑ دھکڑ ہوگی؟‘ انہوں نے کہا کہ ’اب سپریم کورٹ کا بھی امتحان ہے۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’سپریم کورٹ کی گائیڈ لائنز کے باوجود انہوں نے لوگوں کو مارا۔ عدالتی حکم کے بعد جو کچھ ہوا ہم اس کے لیے تیار نہ تھے۔

آئی جی اسلام آباد، ڈی آئی جی آپریشنز لاہور اور سی سی پی او لاہور کے خلاف ایف آئی آرز کٹوائیں گے، ان پولیس افسران کی تصاویر سوشل میڈیا پر ڈالیں گے تاکہ سب کو پتا چلے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے 6 روز کا وقت دے رکھا ہے اور اس مرتبہ ہم پوری تیاری کے ساتھ جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم الیکشن کے لیے ہر طرح کے مذاکرات کے لیے تیار ہیں، الیکشن کی تاریخ ملنے تک ہم آگے نہیں جاسکتے۔

’اس ملک کو بچانے کا ٹھیکہ صرف ہم نے نہیں لے رکھا، اس کو بچانے کی ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ادارے تماشا دیکھ رہے ہیں، ایک پاکستانی ہونے کے ناتے اداروں کو کہنا چاہتا ہوں کہ ملک تباہی کی طرف جا رہا ہے۔ یہ ملک تباہ ہوا تو وہ سب ذمہ دار ہوں گے جنہوں نے اجازت دی۔

عمران خان نے کہا کہ ’اب یہ نیب میں اپنی مرضی کا آدمی رکھوانا چاہتے ہیں، انہوں نے ایف آئی اے کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے، ہم اپنا کیس لے کر سپریم کورٹ میں لے کر جا رہے ہیں۔

’اوورسیز پاکستانیوں کی ووٹنگ کا حق ختم کرنا اُن کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، نیب ترمیمی بل اور انتخابی اصلاحات بل کو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کرنے جارہے ہیں۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ’امریکی آقاؤں کے خوف سے روس سے سستا پیٹرول نہیں خریدا گیا، یہ فرق ہے آزاد اور غلامانہ پالیسی میں، ہم آزاد قوم ہیں، ہمارے احتجاج کی وجہ یہ ہی تھی، کسی کو آقا ماننا شرک ہے۔

Share this post