الیکشنز کی تاریخ ملنے تک اسلام آباد سے نہیں جائیں گے: عمران خان

الیکشنز کی تاریخ ملنے تک اسلام آباد سے نہیں جائیں گے: عمران خان

سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کو سری نگر ہائی وے سے ملحق گراؤنڈ میں احتجاج کی اجازت دے دی ہے۔ تحریک انصاف کو سرکاری و نجی املاک کو نقصان نہ پہنچانے کی یقین دہانی پر احتجاج کی اجازت دی گئی۔

عدالت نے وزارت داخلہ کو طاقت کے غیر ضروری استعمال سے روک دیا ہے۔ عدالت نے حکومت کو تحریک انصاف کو سیکیورٹی انتظامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو رکاوٹیں ہٹانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ سپریم کورٹ نے تمام گرفتار رہنماؤں، کارکنان اور وکلاء کو فوری رہا کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان معاہدے کی خبروں کی تردید کی ہے۔

انہوں نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ یہ افواہ اور غلط معلومات ہے کہ معاہدہ طے پا گیا ہے۔ بالکل نہیں! ہم اسلام آباد کی طرف بڑھ رہے ہیں اور کسی ڈیل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اسمبلیوں کے تحلیل اور الیکشن کی تاریخ کا اعلان ہونے تک اسلام آباد میں رہیں گے۔‘

سپریم کورٹ میں لانگ مارچ روکنے کے لیے راستوں کی بندش اور چھاپوں کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران تحریک انصاف کے وکیل بابر اعوان نے موقف اپنایا کہ عدالت حکومت کو چند احکامات جاری کرے۔

انہوں نےمطالبہ کیا کہ ہمارے گرفتار لوگوں کو رہا کیا جائے، سپریم کورٹ جو حکم دے گی اس پر عمل ہوگا۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وزیراعظم نے کہا ہے عدالت اطمینان رکھے آئینی اور قانونی تقاضوں کو پورا کیا جائے گا۔

بابر اعوان نے بتایا کہ عمران خان نے چار رکنی مذاکراتی ٹیم تشکیل دی ہے۔ جس پر اٹارنی جنرل نے آگاہ کیا کہ وزیراعظم نے بھی وفاقی وزراء پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔

سابق وزیراعظم عمران خان نے صوابی انٹرچینج پر کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’راستے میں رکاوٹیں ہیں، انشااللہ ہم نے ڈی چوک اسلام آباد پہنچنا ہے، کوئی رکاوٹ ہمیں نہیں روک سکتی۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ہم نے کسی کو احتجاج سے نہیں روکا تھا۔ ہم نے ان کے لانگ مارچ کو نہیں روکا تھا۔‘

عمران خان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے ہمیشہ پُرامن احتجاج کیا ہے، احتجاج کرنا ہمارا حق ہے۔

سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ وہ پشاور سے اپنے مارچ کا آغاز کر رہے ہیں۔

بدھ کو ایک ویڈیو میں پیغام میں عمران خان نے کہا ’وہ ولی انٹر چینج پر پہنچ رہے ہیں۔ سارے پختونخوا کے لوگوں کو کہہ رہا ہوں کہ آپ نے وہاں پہنچنا ہے۔‘

’میں وہاں سے آزادی کے کارواں کو حقیقی آزادی کے کارواں کو لیڈ کروں گا اور وہاں سے ہم اسلام آباد کی طرف نکلیں گے۔‘

انہوں نے کہا مجھے امید ہے کہ سب نکلیں گے، سب میرے ساتھ نکلیں گے کیونکہ یہ پاکستان کی تاریخ میں فیصلہ کن وقت ہے۔ ہم حقیقی آزادی لے کر رہیں گے۔

Share this post